اتوار، 1 مارچ، 2020

اصول مظفر، جلسہ ۲

علم اصول کا موضوع :
اس علم کا کوئی خاص موضوع نہیں ہے ،بلکہ جو بھی ہماری غرض مہم میں شریک ہوگا وہی ہمارا موضوع ہے ،اور ہماری غرض  حکم شرعی کا استنباط ہے پس اس علم کا موضوع ادلہ اربع یعنی کتاب سنت اجماع اور عقل کو قرار دینا  یا متقدمین کی طرح ان چار میں استصحاب قیاس اور استحسان کا اضافہ کرنا بلاوجہ ہے ۔
اور یہ بھی لازمی نہیں کہ ہر علم کے لئے ایک موضوع ہو جس کے عوارض ذاتیہ کے سلسلے میں اس علم میں بحث کی جائے ،جیسا کہ منطقی حضرات نے اسے تسلیم کر لیا ہے ،کیونکہ نہ تو یہ لازم ہے اور نہ ہی اس پر کوئی دلیل ہے ۔
علمی اصول کا فائدہ :
شریعت کا ہر پابند انسان یہ بات جانتا ہے کہ انسان کے اختیاری افعال میں سے ہر ایک فعل کے لئے کوئی نہ کوئی حکم  احکام خمسہ- یعنی وجوب حرمت اور اسی طرح دوسری چیزیں جیسے مکروہ  مباح اور مستحب- میں سے شریعت اسلام میں  ثابت ہے ،اور ہر متشرع کو یہ بھی علم ہے  کہ ان احکام کا علم ہر ایک کو علم ضروری کی حد تک نہیں ہوتا بلکہ اکثر احکام میں نظر دقت اور دلیل کے اقامہ کی ضرورت ہے ،یعنی وہ احکام علوم نظری میں سے ہیں ۔
اور علم اصول وہی علم ہے جسے احکام شرعیہ پر دلیل قائم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے ،بس اس علم کا فائدہ احکام شرعیہ پر دلیل قائم کرنے میں مدد لینا ہے ۔
علم اصول کی بحثوں کی تقسیم :
اس عالم کی بحثوں کی چار قسمیں ہیں ۔
١۔  الفاظ کی بحثیں: اس میں ایک عام جہت سے الفاظ کی دلالتوں اور ان کے ظواہرکے سلسلے میں بحث کی جاتی ہے ،مثال کے طور پر یہ بحث کی جاتی ہے کہ صیغہ افعل وجوب میں ظہور رکھتا ہے یا نہیں اور نہی حرمت میں ظہور رکھتاہے یا نہیں اور اسی طرح دوسری چیزیں ۔
٢۔  عقلی بحثیں :اس میں احکام کے لوازم کے سلسلے میں بحث کی جاتی ہے گرچہ  احکام کے الفاظ اسکے اوپر لفظ طور پر دلالت نہ کرتے ہو ،جیسا کہ یہ بحث کرنا کہ حکم عقل اور حکم شرع کے درمیان ملازمہ ہے یا نہیں ،یا یہ بحث کرنا کہ کسی چیز کے واجب ہونے سے کیا اس کا مقدمہ بھی واجب ہوجاتا ہے یا نہیں کہ جو اس بحث میں مقدمہ واجب کے نام سے معروف ہے ،یا یہ بحث کرنا کہ کسی چیز کے واجب ہونے سے کیا اس کی ضد حرام ہوجاتی ہے یا نہیں کہ جو اس علم میں مسئلہ ضد کے نام سے معروف ہے ،یا یہ بحث کرنا کہ کیا ایک ہی چیز میں امرونہی کا اجتماع جائز ہے یا نہیں اور اسی طرح دوسری چیز ہیں ۔
٣۔  حجت کی بحثیں :اس میں حجت اور دلیل کے سلسلے میں بحث کی جاتی ہے جیسا کہ یہ بحث کرنا کے خبر واحد حجت ہے یا نہیں ہے ،اور ظواہر حجت ہیں یا نہیں اور کتاب کے ظواہر حجت ہیں یا نہیں سنت  اور اجماع اور عقل حجت ہیں یا نہیں وغیرہ ۔
۴۔  اصول عملیہ کی بحثیں: اس میں یہ بحث کی جاتی ہے کہ جب فقیہ کے پاس دلیل اجتہادی نہ ہو تو اس کا مرجع کیا ہوگا جیسا کہ اصل برائت کے سلسلے میں بحث کرنا احتیاط اور استصحاب اور اسی طرح دوسری چیزوں کے سلسلے میں بحث کرنا ۔
ایسی صورت میں کتاب کے چار مقاصد ہیں اور ایک خاتمہ ہے کہ جس میں الفاظ کے تعارض کے سلسلے میں بحث کی جائے گی اور اسے مباحث تعادل اور تراجیح کہا جاتا ہے ،پس اس کتاب کے انشاءاللہ پانچ جزء ہوں گے ۔
ان پانچ اجزاء کو شروع کرنے سے پہلے مقدمہ کے طور پر ضروری ہے کہ لغوی بحثوں کو مطرح کیا جائے کہ جن کے سلسلے میں یا تو علوم ادبی میں اصلا بحث ہی نہیں کی گئی یا اگر بحث کی گئی تو انکے حق کو ادا نہیں کیا  گیا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں