اتوار، 8 مارچ، 2020

*بسمہ تعالی*
🌸🌸🌸🌸🌸🌺🌺🌺🌺🌺🏵🏵🏵
با سلام 
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی جَعَلَنَا مِنَ الْمُتَمَسِّکِینَ بِوِلاَیَةِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلیِّ بنِ أَبِی طالِب وَ الْأَئِمَّةِ عَلَیْهِمُ السَّلاَمُ.
🌸🌸🌸🌸🌸🌸
‎‏‎‌‌‌‌‎‏‎‌‌‌╭💖ঊঈ═─┅─

مصرع: نبی کی گود میں آتے ہی *مسکرائے* علی۔

۱۔ جھاں چراغ محبت کا ہے جلائے علی۔
 اس اک چراغ کو دنیا میں جگمگائے علی۔

۲۔ بنائے رشک ملائک وہ اپنے عاشق کو۔
 عدو کو قابل لعنت بھی ہے بنائے علی۔

۳۔ کھاں ھر  ایک کی تقدیر میں دُر نایاب۔
 وہ خوش نصیب ہیں جنکو ملے وِلائے علی۔

۴۔ اگر وہ پھیلے تو بن جائے ناطقِ قرآن۔
 سمٹ کے نقطہء بِسِمل میں بھی سمائے علی۔

۵۔ شرف علی کا ولادت نہیں ہے کعبہ میں۔
 جھاں بھی پیدا ہو کعبہ وہیں بنائے علی۔

*تضمین*
۶۔ کہ جیسے بچھڑے ہوئے یار مل کے ھنستے ہیں۔
 نبی کی گود میں آتے ہی مسکرائے علی۔

۷۔ قصیدہ دو ہی جگہ پر پڑھا ہے قرآں نے۔
 عطاء حضرت زھراء ہو یا عطائے علی۔

۸۔ شھید راہ خدا ہے، اسے نہ مردہ کہو۔
 کسی کو مرنے نہیں دیتی ہے وِلائے علی۔

۹۔ پیمبران گزشتہ کا آئینہ دیکھا۔
 نبی کے دست مبارک پہ جبکہ آئے علی۔

۱۰۔ ھمارے خواب کی تعبیر مل گئی منھال۔
 فرشتوں تھم کے رھو، قبر میں ہیں آئے علی۔

ولادت مولی الموحدین حضرت علی ( ع ) و روز پدر و روز مرد بر بزرگمردان بی ادعا مبارک باد.
التماس دعا.
🌸🌸🌸🌸
🏵🏵✍🏻 *سید منھال حسین رضوی* 🏵🏵

اتوار، 1 مارچ، 2020

اصول مظفر، جلسہ ۳

مقدمہ 
اس میں ان امور کے سلسلے میں بحث کی جاتی ہے جو الفاظ کی  وضع اور اس کے استعمال اور اس کی دلالت  سے مرتبط ہیں اور اس میں چودہ بحثیں ہیں :
١۔  وضع کی حقیقت 
اس میں کوئی شک نہیں کہ لفظ کی دلالت معنی پر کسی بھی لغت میں ذاتی نہیں ہے جیسا کہ مثال کے طور پر دھواں کی دلالت آگ کے وجود پر ذاتی ہے ،گرچہ بعض نے یہ وہم و گمان کیا ہے کہ لفظ کی دلالت معنی پر ذاتی ہے ،کیونکہ اس گمان کا ملازمہ یہ ہے کہ تمام انسان اس دلالت میں شریک ہوں ،جبکہ ایک فارسی شخص  مثال کے طور پر بغیر تعلیم وتعلم کے عربی اور غیر عربی  کے الفاظ نہیں سمجھتا ،اور اسی طرح تمام لغات میں اس کے برعکس اور یہ واضح ہے ۔
٢۔  واضع کون ہے ؟
لیکن لغات میں سے ہر ایک لغت کا واضع اولی کون ہے ؟
کہا گیا ہے :واضع کے لیے ضروری ہے کہ کوئی ایک شخص ہو اور  جماعت  بشر اس لغت کے تفاہم میں اس شخص کا اتباع کرے ۔اور کہا گیا ہے،- جو کہ  حق سے زیادہ قریب ہے - طبیعت  بشری تقاضا کرتی ہے جو کہ اللہ کی طرف سے ودیعت کی گئی ہے کہ انسان اپنے مقاصد کو الفاظ کے ذریعہ سے پہنچائے ،پھر وہ خاص معنی کا ارادہ کرتے ہوئے خاص لفظ اپنے طرف سے ایجاد کرتا ہے - جیسا کہ  ابتدائے امر میں بچوں سے مشاہدہ کیا جاتا ہے - پھر وہ اپنے ملنے جلنے والوں سے فہم و تفاہم کرتا ہے ،اور اسی طرح دوسرے لوگ بھی اپنے مقاصد کو پہنچانے کے لیے اپنی طرف سے الفاظ کا ایجاد کرتے ہیں  اور مرور زمان کے ساتھ ان الفاظ کے مجموعہ سے الفاظ کا ایک چھوٹا گروہ تشکیل پا جاتا ہے  یہاں تک کہ وہ ایک خاص لغت بن جاتی ہے ،جس کے اپنے  قواعد  ہیں  جس کے ذریعے سے انسانوں کی ایک قوم  آپس میں فہم و تفہیم  کرتی ہے ۔پھر یہی لغت دور دراز کی قوموں تک پہنچتی ہے  اور تبدیلی وزیادتی کے ساتھ نشوونما پاتی ہے  یہاں تک کہ اس سے نئی لغت  ابھرتی ہے ،پھر ہر جماعت کی ایک خاص لغت ہوجاتی ہے ۔
اس بنیاد پر وضع کی حقیقت لفظ کو معنی کے لئے قرار دینا اور اس لفظ کو معنی سے مخصوص کردینا ہے ۔اور دوسرے قول کو اختیار کرنے کی دلیل یہ ہے کہ اگر واضع کوئی ایک شخص ہوتا تو لغت کی تاریخ میں اس شخص کا نام ضرور  نقل ہوتا اور  ہر اہل لغت کے نزدیک اس کا واضع معروف ہوتا ۔
٣۔  وضع تعیینی اور تعیّنی
اگر لفظ اپنے معنی پر دلالت کرے اور یہ دلالت وضع اور تخصیص کے ذریعہ حاصل ہوئی ہو تو اس وضع کو (تعیینی )کہیں گے ۔اور اگر لفظ اپنے معنی پر دلالت کرے اور یہ دلالت  اس درجہ کثرت استعمال سے حاصل ہوئی ہو  کہ ذہن اس قدر مالوف ہوجائیں  کہ سننے والے کا ذہن لفظ سنتے ہی معنی کی طرف منتقل ہو جائے اور اس وضع کو ایسی صورت میں (تعیّنی)  کہتے ہیں ۔

اصول مظفر، جلسہ ۲

علم اصول کا موضوع :
اس علم کا کوئی خاص موضوع نہیں ہے ،بلکہ جو بھی ہماری غرض مہم میں شریک ہوگا وہی ہمارا موضوع ہے ،اور ہماری غرض  حکم شرعی کا استنباط ہے پس اس علم کا موضوع ادلہ اربع یعنی کتاب سنت اجماع اور عقل کو قرار دینا  یا متقدمین کی طرح ان چار میں استصحاب قیاس اور استحسان کا اضافہ کرنا بلاوجہ ہے ۔
اور یہ بھی لازمی نہیں کہ ہر علم کے لئے ایک موضوع ہو جس کے عوارض ذاتیہ کے سلسلے میں اس علم میں بحث کی جائے ،جیسا کہ منطقی حضرات نے اسے تسلیم کر لیا ہے ،کیونکہ نہ تو یہ لازم ہے اور نہ ہی اس پر کوئی دلیل ہے ۔
علمی اصول کا فائدہ :
شریعت کا ہر پابند انسان یہ بات جانتا ہے کہ انسان کے اختیاری افعال میں سے ہر ایک فعل کے لئے کوئی نہ کوئی حکم  احکام خمسہ- یعنی وجوب حرمت اور اسی طرح دوسری چیزیں جیسے مکروہ  مباح اور مستحب- میں سے شریعت اسلام میں  ثابت ہے ،اور ہر متشرع کو یہ بھی علم ہے  کہ ان احکام کا علم ہر ایک کو علم ضروری کی حد تک نہیں ہوتا بلکہ اکثر احکام میں نظر دقت اور دلیل کے اقامہ کی ضرورت ہے ،یعنی وہ احکام علوم نظری میں سے ہیں ۔
اور علم اصول وہی علم ہے جسے احکام شرعیہ پر دلیل قائم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے ،بس اس علم کا فائدہ احکام شرعیہ پر دلیل قائم کرنے میں مدد لینا ہے ۔
علم اصول کی بحثوں کی تقسیم :
اس عالم کی بحثوں کی چار قسمیں ہیں ۔
١۔  الفاظ کی بحثیں: اس میں ایک عام جہت سے الفاظ کی دلالتوں اور ان کے ظواہرکے سلسلے میں بحث کی جاتی ہے ،مثال کے طور پر یہ بحث کی جاتی ہے کہ صیغہ افعل وجوب میں ظہور رکھتا ہے یا نہیں اور نہی حرمت میں ظہور رکھتاہے یا نہیں اور اسی طرح دوسری چیزیں ۔
٢۔  عقلی بحثیں :اس میں احکام کے لوازم کے سلسلے میں بحث کی جاتی ہے گرچہ  احکام کے الفاظ اسکے اوپر لفظ طور پر دلالت نہ کرتے ہو ،جیسا کہ یہ بحث کرنا کہ حکم عقل اور حکم شرع کے درمیان ملازمہ ہے یا نہیں ،یا یہ بحث کرنا کہ کسی چیز کے واجب ہونے سے کیا اس کا مقدمہ بھی واجب ہوجاتا ہے یا نہیں کہ جو اس بحث میں مقدمہ واجب کے نام سے معروف ہے ،یا یہ بحث کرنا کہ کسی چیز کے واجب ہونے سے کیا اس کی ضد حرام ہوجاتی ہے یا نہیں کہ جو اس علم میں مسئلہ ضد کے نام سے معروف ہے ،یا یہ بحث کرنا کہ کیا ایک ہی چیز میں امرونہی کا اجتماع جائز ہے یا نہیں اور اسی طرح دوسری چیز ہیں ۔
٣۔  حجت کی بحثیں :اس میں حجت اور دلیل کے سلسلے میں بحث کی جاتی ہے جیسا کہ یہ بحث کرنا کے خبر واحد حجت ہے یا نہیں ہے ،اور ظواہر حجت ہیں یا نہیں اور کتاب کے ظواہر حجت ہیں یا نہیں سنت  اور اجماع اور عقل حجت ہیں یا نہیں وغیرہ ۔
۴۔  اصول عملیہ کی بحثیں: اس میں یہ بحث کی جاتی ہے کہ جب فقیہ کے پاس دلیل اجتہادی نہ ہو تو اس کا مرجع کیا ہوگا جیسا کہ اصل برائت کے سلسلے میں بحث کرنا احتیاط اور استصحاب اور اسی طرح دوسری چیزوں کے سلسلے میں بحث کرنا ۔
ایسی صورت میں کتاب کے چار مقاصد ہیں اور ایک خاتمہ ہے کہ جس میں الفاظ کے تعارض کے سلسلے میں بحث کی جائے گی اور اسے مباحث تعادل اور تراجیح کہا جاتا ہے ،پس اس کتاب کے انشاءاللہ پانچ جزء ہوں گے ۔
ان پانچ اجزاء کو شروع کرنے سے پہلے مقدمہ کے طور پر ضروری ہے کہ لغوی بحثوں کو مطرح کیا جائے کہ جن کے سلسلے میں یا تو علوم ادبی میں اصلا بحث ہی نہیں کی گئی یا اگر بحث کی گئی تو انکے حق کو ادا نہیں کیا  گیا۔

جمعرات، 27 فروری، 2020

اصول مظفر، جلسہ ١

بسمہ تعالی و بذکر اولیائہ

مدخل 
علم اصول کی تعریف :
علم اصول فقہ اس علم کو کہتے ہیں جس میں ان قواعد کے سلسلے میں بحث کی جاتی ہے  جن کا نتیجہ استنباط حکم شرعی کے راہ میں واقع ہوتا ہے ۔
اس کی مثال : اسلام کی شریعت مقدسہ میں نماز واجب ہے  اور اس کے وجوب پر قرآن کی یہ آیت دلالت کرتی ہے "و ان اقیموا الصلاۃ " ،"ان الصلاۃ کانت علی المومنین کتابا موقوتا "۔ لیکن پہلی والی آیت  کی دلالت اس بات پر ٹکی ہوئی ہے کہ کیا امر کا صیغہ مثال کے طور پر یہاں پر  اقیموا یہ صیغہء امر وجوب میں ظہور رکھتا ہے یا نہیں اور اس بات پر بھی ٹکی ہوئی ہے کہ کیا قرآن کا ظہور ہمارے لئے حجت ہے اور اس سے استدلال کر سکتے ہیں یا نہیں ۔
علم اصول انہی دونوں مسئلوں کو بیان کرنے کا کفیل ہے ۔
پس جب فقیہ اس علم اصول کے ذریعہ سے جان جاتا ہے کہ امر کا صیغہ  وجوب میں ظاہر ہے اور قرآن کا ظہور حجت ہے تو پھر فقیہ مستطیع ہو جاتا ہے کہ وہ اس آیت کریمہ مذکورہ کے ذریعے  نماز کے وجوب کا استنباط کرے ۔
اسی طرح ہر حکم شرعی میں کہ جو دلیل عقلی یا شرعی کے ذریعہ سے حاصل کیا جائے  جس کا استنباط اس علم کے مسئلہ یا مسئلوں میں کسی دلیل کے اوپر موقوف اور ٹکا ہوا ہو۔
حکم :واقعی ہے اور ظاہری، اور دلیل: اجتہادی ہے اور فقاہتی ۔
پھر یہ بات مخفی نہ رہ جائے کہ اس علم کی تعریف میں جو حکم شرعی کا ذکر ہوا اس کی دو قسمیں ہیں :
١: کسی چیز کے لیے حکم شرعی ثابت ہو اس حیثیت سے کے وہ افعال میں سے ایک فعل ہے ،جیسا کہ گزری ہوئی مثال یعنی نماز کا وجوب ،پس نماز کے لئے وجوب ثابت ہے اس حیثیت سے کہ بذات خود یہ نماز ہے اور افعال میں سے ایک فعل ہے کسی بھی دوسری چیزوں سے قطع نظر کرتے ہوئے اور اس طرح کے حکم کو حکم واقعی اور جو دلیل اس کے اوپر دلالت کرے اسے دلیل اجتہادی کہتے ہیں ۔
٢:  کسی چیز کے لیے حکم شرعی ثابت ہو مگر اس حیثیت سے کہ اس کا حکم واقعی معلوم نہ ہو ،جیسا کہ اگر اجنبیہ کی طرف حر مت نظر میں فقہاء  اختلاف کریں ،یا نماز کے لیے اقامت کے وجوب میں اختلاف کریں ،ایسی صورت میں کسی بھی قول پر دلیل نہ ہونے کی وجہ سے  فقیہ حکم واقعی اولی میں شک کرتا ہے کہ جس میں اختلاف کیا گیا تھا ،اور اس لیے کہ مقام عمل میں فقیہ متحیر نہ رہ جائے اس کے لیے ضروری ہے کہ کوئی دوسرا حکم موجود ہو گرچہ  وہ عقلی ہی کیوں نہ ہو ،جیسا کہ احتیاط یا برائت یا شک کی طرف توجہ نہ دینے کا وجوب ۔اور اس طرح کے حکم  ثانوی کو حکم ظاہری کہا جاتا ہے اور جو دلیل اس پر دلالت کرتی ہے اسے دلیل فقاہتی یا اصل عملی کہا جاتا ہے ۔علم اصول کی بحثیں ان بحثوں کی کفیل ہیں کہ جن کا نتیجہ حکم واقعی کے استنباط کے راستے میں واقع ہوتا ہے اور ان بحثوں کی بھی کفیل ہے کہ جن کا نتیجہ حکم ظاہری کے استنباط کے راستے میں واقع ہوتا ہے ۔علم اصول کی تعریف میں ان تمام چیزوں کو جمع کردیا گیاہے جہاں کہا گیا کہ اس کا نتیجہ استنباط حکم شرعی کی راہ میں واقع ہوتا ہے ۔
ھماری کسی بھی پوسٹ کو بغیر لنک کے کاپی پیسٹ یا ارسال کرنا اور تحریر میں ردوبدل کرنا نامشروع اور حرام هے. 
اب تک کے دروس ٹلگرام چینل پر دستیاب هیں.
http://t.me/madinatulilm