مقدمہ
اس میں ان امور کے سلسلے میں بحث کی جاتی ہے جو الفاظ کی وضع اور اس کے استعمال اور اس کی دلالت سے مرتبط ہیں اور اس میں چودہ بحثیں ہیں :
١۔ وضع کی حقیقت
اس میں کوئی شک نہیں کہ لفظ کی دلالت معنی پر کسی بھی لغت میں ذاتی نہیں ہے جیسا کہ مثال کے طور پر دھواں کی دلالت آگ کے وجود پر ذاتی ہے ،گرچہ بعض نے یہ وہم و گمان کیا ہے کہ لفظ کی دلالت معنی پر ذاتی ہے ،کیونکہ اس گمان کا ملازمہ یہ ہے کہ تمام انسان اس دلالت میں شریک ہوں ،جبکہ ایک فارسی شخص مثال کے طور پر بغیر تعلیم وتعلم کے عربی اور غیر عربی کے الفاظ نہیں سمجھتا ،اور اسی طرح تمام لغات میں اس کے برعکس اور یہ واضح ہے ۔
٢۔ واضع کون ہے ؟
لیکن لغات میں سے ہر ایک لغت کا واضع اولی کون ہے ؟
کہا گیا ہے :واضع کے لیے ضروری ہے کہ کوئی ایک شخص ہو اور جماعت بشر اس لغت کے تفاہم میں اس شخص کا اتباع کرے ۔اور کہا گیا ہے،- جو کہ حق سے زیادہ قریب ہے - طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے جو کہ اللہ کی طرف سے ودیعت کی گئی ہے کہ انسان اپنے مقاصد کو الفاظ کے ذریعہ سے پہنچائے ،پھر وہ خاص معنی کا ارادہ کرتے ہوئے خاص لفظ اپنے طرف سے ایجاد کرتا ہے - جیسا کہ ابتدائے امر میں بچوں سے مشاہدہ کیا جاتا ہے - پھر وہ اپنے ملنے جلنے والوں سے فہم و تفاہم کرتا ہے ،اور اسی طرح دوسرے لوگ بھی اپنے مقاصد کو پہنچانے کے لیے اپنی طرف سے الفاظ کا ایجاد کرتے ہیں اور مرور زمان کے ساتھ ان الفاظ کے مجموعہ سے الفاظ کا ایک چھوٹا گروہ تشکیل پا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ایک خاص لغت بن جاتی ہے ،جس کے اپنے قواعد ہیں جس کے ذریعے سے انسانوں کی ایک قوم آپس میں فہم و تفہیم کرتی ہے ۔پھر یہی لغت دور دراز کی قوموں تک پہنچتی ہے اور تبدیلی وزیادتی کے ساتھ نشوونما پاتی ہے یہاں تک کہ اس سے نئی لغت ابھرتی ہے ،پھر ہر جماعت کی ایک خاص لغت ہوجاتی ہے ۔
اس بنیاد پر وضع کی حقیقت لفظ کو معنی کے لئے قرار دینا اور اس لفظ کو معنی سے مخصوص کردینا ہے ۔اور دوسرے قول کو اختیار کرنے کی دلیل یہ ہے کہ اگر واضع کوئی ایک شخص ہوتا تو لغت کی تاریخ میں اس شخص کا نام ضرور نقل ہوتا اور ہر اہل لغت کے نزدیک اس کا واضع معروف ہوتا ۔
٣۔ وضع تعیینی اور تعیّنی
اگر لفظ اپنے معنی پر دلالت کرے اور یہ دلالت وضع اور تخصیص کے ذریعہ حاصل ہوئی ہو تو اس وضع کو (تعیینی )کہیں گے ۔اور اگر لفظ اپنے معنی پر دلالت کرے اور یہ دلالت اس درجہ کثرت استعمال سے حاصل ہوئی ہو کہ ذہن اس قدر مالوف ہوجائیں کہ سننے والے کا ذہن لفظ سنتے ہی معنی کی طرف منتقل ہو جائے اور اس وضع کو ایسی صورت میں (تعیّنی) کہتے ہیں ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں