جمعرات، 27 فروری، 2020

اصول مظفر، جلسہ ١

بسمہ تعالی و بذکر اولیائہ

مدخل 
علم اصول کی تعریف :
علم اصول فقہ اس علم کو کہتے ہیں جس میں ان قواعد کے سلسلے میں بحث کی جاتی ہے  جن کا نتیجہ استنباط حکم شرعی کے راہ میں واقع ہوتا ہے ۔
اس کی مثال : اسلام کی شریعت مقدسہ میں نماز واجب ہے  اور اس کے وجوب پر قرآن کی یہ آیت دلالت کرتی ہے "و ان اقیموا الصلاۃ " ،"ان الصلاۃ کانت علی المومنین کتابا موقوتا "۔ لیکن پہلی والی آیت  کی دلالت اس بات پر ٹکی ہوئی ہے کہ کیا امر کا صیغہ مثال کے طور پر یہاں پر  اقیموا یہ صیغہء امر وجوب میں ظہور رکھتا ہے یا نہیں اور اس بات پر بھی ٹکی ہوئی ہے کہ کیا قرآن کا ظہور ہمارے لئے حجت ہے اور اس سے استدلال کر سکتے ہیں یا نہیں ۔
علم اصول انہی دونوں مسئلوں کو بیان کرنے کا کفیل ہے ۔
پس جب فقیہ اس علم اصول کے ذریعہ سے جان جاتا ہے کہ امر کا صیغہ  وجوب میں ظاہر ہے اور قرآن کا ظہور حجت ہے تو پھر فقیہ مستطیع ہو جاتا ہے کہ وہ اس آیت کریمہ مذکورہ کے ذریعے  نماز کے وجوب کا استنباط کرے ۔
اسی طرح ہر حکم شرعی میں کہ جو دلیل عقلی یا شرعی کے ذریعہ سے حاصل کیا جائے  جس کا استنباط اس علم کے مسئلہ یا مسئلوں میں کسی دلیل کے اوپر موقوف اور ٹکا ہوا ہو۔
حکم :واقعی ہے اور ظاہری، اور دلیل: اجتہادی ہے اور فقاہتی ۔
پھر یہ بات مخفی نہ رہ جائے کہ اس علم کی تعریف میں جو حکم شرعی کا ذکر ہوا اس کی دو قسمیں ہیں :
١: کسی چیز کے لیے حکم شرعی ثابت ہو اس حیثیت سے کے وہ افعال میں سے ایک فعل ہے ،جیسا کہ گزری ہوئی مثال یعنی نماز کا وجوب ،پس نماز کے لئے وجوب ثابت ہے اس حیثیت سے کہ بذات خود یہ نماز ہے اور افعال میں سے ایک فعل ہے کسی بھی دوسری چیزوں سے قطع نظر کرتے ہوئے اور اس طرح کے حکم کو حکم واقعی اور جو دلیل اس کے اوپر دلالت کرے اسے دلیل اجتہادی کہتے ہیں ۔
٢:  کسی چیز کے لیے حکم شرعی ثابت ہو مگر اس حیثیت سے کہ اس کا حکم واقعی معلوم نہ ہو ،جیسا کہ اگر اجنبیہ کی طرف حر مت نظر میں فقہاء  اختلاف کریں ،یا نماز کے لیے اقامت کے وجوب میں اختلاف کریں ،ایسی صورت میں کسی بھی قول پر دلیل نہ ہونے کی وجہ سے  فقیہ حکم واقعی اولی میں شک کرتا ہے کہ جس میں اختلاف کیا گیا تھا ،اور اس لیے کہ مقام عمل میں فقیہ متحیر نہ رہ جائے اس کے لیے ضروری ہے کہ کوئی دوسرا حکم موجود ہو گرچہ  وہ عقلی ہی کیوں نہ ہو ،جیسا کہ احتیاط یا برائت یا شک کی طرف توجہ نہ دینے کا وجوب ۔اور اس طرح کے حکم  ثانوی کو حکم ظاہری کہا جاتا ہے اور جو دلیل اس پر دلالت کرتی ہے اسے دلیل فقاہتی یا اصل عملی کہا جاتا ہے ۔علم اصول کی بحثیں ان بحثوں کی کفیل ہیں کہ جن کا نتیجہ حکم واقعی کے استنباط کے راستے میں واقع ہوتا ہے اور ان بحثوں کی بھی کفیل ہے کہ جن کا نتیجہ حکم ظاہری کے استنباط کے راستے میں واقع ہوتا ہے ۔علم اصول کی تعریف میں ان تمام چیزوں کو جمع کردیا گیاہے جہاں کہا گیا کہ اس کا نتیجہ استنباط حکم شرعی کی راہ میں واقع ہوتا ہے ۔
ھماری کسی بھی پوسٹ کو بغیر لنک کے کاپی پیسٹ یا ارسال کرنا اور تحریر میں ردوبدل کرنا نامشروع اور حرام هے. 
اب تک کے دروس ٹلگرام چینل پر دستیاب هیں.
http://t.me/madinatulilm

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں