ہفتہ، 24 مارچ، 2018

النحو الجامع (دسواں سبق, جوازم مضارع)

دسواں سبق
وه جگهیں جهاں فعل مضارع مجزوم هوتا هے. 
جب کبھی فعل مضارع سے پهلے ادوات جازمه میں سے کوئی ایک آجائے تو فعل مضارع مجزوم هوتا هے, اور ان ادوات کی دو قسمیں هیں:
1. جو ایک فعل کو جزم دیتے هیں,اور وه یه هیں: لم,  لما,  لام امر, لاء ناهیه. 
2. جو دو فعل کو جزم دیتے هیں, اور وه یه هیں: ان, اذما, من, ما, مھما, متی, ایان, این, انی, حیثما,ای,کیفما, جیسے که یه آیت:(ان ینتھوا یغفر لھم. "انفال:38")
پهلی قسم میں سارے حرف هیں اور سبھی مبنی هیں,دوسری قسم میں سارے ادوات اسم هیں سوائے "ان" کے که یه حرف هے, اور سبھی مبنی هیں سوئے "ای" کے که یه معرب هے. 

ادوات شرط دو جملوں پر داخل هوتے هیں تاکه دلالت کرے که پهلا دوسرے کا سبب هے اور پهلے جملے کو شرط اور دوسرے کو جواب یا جزاء کهتے هیں.

جب شرط اور جواب دونوں مضارع هوں تو دونوں کو جزم دینا واجب هے, جیسے:(ان تکسل تخسر).
اور جب دونوں ماضی هوں تو محل جزم میں هونگے, جیسے :(ان صبرت ظفرت).
اور جب شرط ماضی هو اور جواب مضارع تو تو ماضی محلا مجزوم هوگا اور مضارع جائز الوجھین هوگا یعنی چاهیں تو جزم دیں یا چاهیں تو رفع دیں, جیسے که یه آیت :(من کان یرید حرث الآخره نزد له فی حرثه."الشوری:20").

اور یه که شرط مضارع هو اور جواب ماضی تو یه ضعیف لغت هے. 

تمام اسماء شرط صدارت طلب هیں یعنی صدر (ابتداء) کلام میں آتے هیں,اس لئے انسے پهلے مذکور کوئی بھی عامل انمیں عمل نهیں کر سکتا هے سوائے حرف جر کے یا یه که یه اسماء مضاف الیه واقع هوں, جیسے :(عند من تجلس اجلس).
اس بناء پر اگر کوئی عامل انمیں عمل کرنے لگے تو یه شرطیت سے خارج هو جائینگے اور مضارع کو جزم نهیں دینگے,  جیسے :(ان من یطلب یجد).

وه فعل مضارع جو طلب کا جواب واقع هو وه وجوبی طور پر پوشیده "ان" کے ذریعه مجزوم هوگا اس شرط کے ساتھ که :
1. جواب "فاء اور واو" سے خالی هو. 
2. طلب جواب کے لئے سبب هو. 
جیسے :(ارحموا من فی الارض یرحمکم من فی السماء). اسی لئے اس مثال میں جزم جائز نهیں هے :(لا تدن من النار تحترق)
آگ کے قریب مت جاؤ جل جاؤگے. 
"لا تدن" تحترق کا سبب نهیں هے, بلکه "تدن" تحترق کا سبب هے. 
"لم" اور "لما" چند امور میں مشترک هیں:
دونوں حرف,  ادات نفی, ادات جزم هیں اور معنی کو زمان گزشته میں بدل دیتے هیں.
اور "لم" کی خاصیت یه هے که:مصاحبت شرط جائز هے اور اسکی نفی ٹوٹ بھی سکتی هے. 
اور "لما" کی خاصیت یه هے که: اسکے مجزوم کو حذف کرنا جائز هے اور منفی کے ثبوت کی توقع باقی رهتی هے. (القواعد النحویه :259)
.......................................................


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں