ہفتہ، 24 مارچ، 2018

النحو الجامع(گیارهواں سبق, اسماء شرط کا اعراب)

گیارهواں سبق
اسماء شرط کا اعراب

اسماء شرط کے اعراب مختلف قسموں کے هیں, اور مندرجه ذیل تفصیل میں اسماء استفھام بھی اسماء شرط جیسے هی هیں.

جو زمان یا مکان پر دلالت کرے, جیسے :(این,  انی,  ایان,  متی, حیثما) یه فعل شرط کا مفعول فیه هونے کے سبب محلا منصوب هوتے هیں ,جیسے :(اینما تکونوا یدرککم الموت. "النساء:78").
اور (من,  ما,  مھما):
1. جب فعل شرط لازم هو تو یه مبتدأ هونے کی بناء پر مرفوع هونگے, اور صحیح ترین قول کی بنیاد پر فعل شرط اسکی خبر هوگی,  جیسے :(من یذھب اذھب معه).

2. جب فعل شرط متعدی هو اور اسکا کوئی مفعول به نه هو تو یه اسکا مفعول به هونے کی بنیاد پر محلا منصوب هوگا, جیسے :(من تجاور فاحسن الیه).

3. جب فعل شرط متعدی هو اور اسکا مفعول به بھی موجود هو تو ایسی صورت میں دو وجهیں جائز هیں: 
(الف) مبتدأ هونے کی بناء پر محلا مرفوع هوگا. 
(ب) پوشیده فعل کا مفعول به هونے کی بنیاد پر محلا منصوب هوگا جسکی تفسیر اسکے بعد والا فعل ظاهر کرتا هے,  جیسے :(من یکرمه زید اکرمه).

اور "کیفما" فعل شرط کے فاعل کے لئے حال هونے کی بناء پر محلا منصوب هوتا هے,  جیسے :(کیفما تکن یکن ابنائک).

اور "ای" کا اعراب مضاف الیه کے حساب سے هوگا:
1. اگر وه اسم زمان یا مکان کی طرف مضاف هو تو مفعول فیه هوگا,  جیسے :(ای یوم تذهب اذھب).
2. اور اگر مصدر کی طرف مضاف هو تو مفعول مطلق هوگا,  جیسے :(ای اکرام تکرم اکرم).
3. اور اگر انکے علاوه کسی اور کی طرف مضاف هو تو تو اسکا حکم "من, ما, مھما" کا حکم هوگا. 
اس بناء پر اس مثال میں :(ای کتاب تقرأ تستفد) مفعول به هوگا,کیونکه "تقرأ" کا مفعول به موجود نهیں هے. اور اس مثال میں :(ای رجل یجد یسد) مبتدأ هونے کی بنیاد پر محلا مرفوع هوگا کیونکه "یجود" فعل لازم هے. 

جب یه اسماء حرف جر یا مضاف کے بعد واقع هوں تو محلا مجرور هوتے هیں , جیسے,:(عما تسأل اسأل) اور (غلام من تضرب اضرب).

جب اسم شرط مبتدأ واقع هو تو کیا اسکی خبر فقط فعل شرط هے کیونکه وه اسم تام هے اور فعل شرط میں مبتدأ کی ضمیر بھی پائی جاتی هے?  یا فعل جواب هے کیونکه جواب سے هی فائده تمام هوتا هے? یا فعل شرط اور جواب شرط سب ملکے خبر واقع هونگے,کیونکه آپکا یه کهنا که:(من یقم اقم معه) اس منزل میں هے که آپ کهیں:(کل من الناس ان یقم اقم معه)?
اور صحیح پهلا نظریه هے کیونکه فائده جواب پر صرف تعلق کی جهت سے موقوف هے نه که خبریه هونے کی جھت سے (مغنی اللبیب :2/608 مع تلخیص)
.........................................................

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں