نواں سبق
وه جگهیں جهاں فعل مضارع پوشیده ان کے ذریعی منصوب هوتا هے
کبھی کبھی فعل مضارع پوشیده ان کے ذریعه منصوب هوتا هے, اور ان کی پوشیدگی کی دو قسمیں هیں:واجب اور جائز.
پانچ جگهوں پر پوشیدگی واجب هے:
1. (لام تاکید) کےبعد,جیسے که یه آیت:( ما کان الله لیطلعکم علی الغیب."آل عمران:179"). اور اسے لام جحود بھی کهتے هیں,اور اسے همیشه "کون"منفی کے بعد نفی کی تاکید کے لئے لایا جاتا هے.
2. "او"کے بعد جو "الی" یا "الا" کے معنی میں هو, جیسے :(اضربه او یطیع) یعنی الی ان یطیع.
3. "حتی"کے بعد, جیسے :(اسلمت حتی ادخل الجنه).
اور جو "حتی"مضارع منصوب پر داخل هوتا هے اسکے تین معانی هیں:
(الف):"الی" کا مرادف اور هم معنی, جیسے که رسول الله صلی الله علیه و آله وسلم کا یه قول:(علی مع القرآن والقرآن مع علی, لا یفترقان حتی یردا علی الحوض."تاریخ الخلفاء:173").
(ب): "کی" تعلیلیه کا مرادف اور هم معنی, جیسے یه آیت:(هم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول الله حتی ینفضوا."منافقون:7").
(ج): استثناء میں "الا" کا مرادف جیسا که مقنع کندی کا یه قول:
لیس العطاء من الفضول سماحه
حتی تجود وما لدیک قلیل
اور فعل مضارع حتی کے ذریعه صرف اسی وقت منصوب هوگا جب یه استقبال کا معنی دے (یعنی اگر مضارع حال کے معنی میں هو تو حتی نصب نهیں دے گا) جیسا که مثالوں میں گزرا.
4. "فاء سببیه" کے بعد جس سے پهلے نفی محض(نفی محض سے مراد ایسی نفی هے که جسکی نفی "نفی" یا "الا" کے ذریعه نا ٹوٹے) هو, جیسے:( ما تزورنا فنکرمک) یا طلب محض هو, جیسے:(لا تقرب من الشر فتقع فیه).(جو طلب اسم فعل کے ذریعه, جیسے:(صه فاحدثک) یا مصدر کے ذریعه, جیسے:(سکوتا فینام الناس) یا لفظ خبر کے ذریعه, جیسے:(رزقنی الله مالا فاتصدق به) هو وه نفی محض نهیں هے.
اور طلب سے مراد" امر, نھی, استفهام اور عرض, تحضیض, تمنی اور ترجی هیں.
5. "واو معیه"کے بعد جس سے پهلے نفی محض هو, جیسے که یه آیت:(ولما یعلم الله الذین جاھدوا منکم ویعلم الصابرین. "آل عمران:142") یا طلب محض هو جیسے که یه آیت:(یا لیتنا نرد ولا نکذب. "انعام:27).
پانچ موارد میں هی "ان" کا پوشیده رکھنا بھی جائز هے
1. "لام تعلیل" کے بعد, جیسے که یه آیت :( وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس. "النحل:44")
2. "واو, فاء, ثم اور او" عاطفه کے بعد جسکا معطوف علیه ایک ایسا اسم هو جو که مؤول به فعل نه هو (فعل اسم سے نه بدلے), جیسے که یه آیت:( وما کان لبشر ان یکلمه الله الا وحیا او من وراء حجاب او یرسل رسولا. "شوری:51")
اور جیسا که شاعر کا یه شعر:
ولبس عباءه وتقر عینی
احب الی من لبس الشفوف.
اور جیسا که آپکا یه کهنا که :(لولا مشاغلی فتمنعنی لزرتک)اور (مقاومتک العدو ثم تنتصر فخر عظیم)
.................................................................
کتاب کا حوالہ دیجیے-
جواب دیںحذف کریں