بارھواں سبق
جواب شرط پر (فاء) کے داخل ہونے کی شرائط
(فاء) کی وجھوں میں سے ایک وجہ یہ ہیکہ وہ جواب کے لئے رابطہ واقع ہو، ایسی صورت میں وجوبی طور پر جواب شرط پر داخل ہوتا ہے،جھاں جواب میں شرط بننے کی صلاحیت نہ ہو،اور ایسا پانچ جگھوں پر ہوتا ہے:
1۔ جب جواب جملہ اسمیہ ہو،جیسے کہ یہ آیت: (وان یمسسک بخیر فھو علی کل شیئ قدیر۔”الانعام:17")،اور کبھی کبھی جملہ اسمیہ میں (اذا) فجائیہ فاء کی نیابت کرتا ہے،جیسے کہ:(وان تصبھم سیئہ بما قدمت ایدیھم اذا ھم یقنتون۔”الروم:36”۔)۔
2۔ جب جواب جملہ فعلیہ ہو اسمیہ کی طرح،جسکا فعل جامد ہو، جیسے کہ:(ومن یکن الشیطان لہ قرینا فساء قرینا۔”النساء:38”)۔
3۔ جب جواب فعل انشائیہ ہو، جیسے :(ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ۔”آل عمران:31”)۔
4۔ جب جواب کا فعل لفظا اور معنی ماضی ہو،جیسے :(ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل۔”یوسف:77”)۔
5۔ جب جواب حرف استقبال سے ملا ہوا ہو،جیسے :(وما یفعلوا من خیر فلن یکفروہ۔”آل عمران:115”)۔
تنبیہیں:
1۔ جب جواب شرط مضارع مثبت ہو تا (فاء) کا داخل کرنا جائز ہے،جیسے :(من یطلب فیجد)۔
2۔ جواب پر (فاء) کا داخل کرنا ممتنع ہے:
(الف): جب جواب ماضی متصرف ہو اور اسکا معنی مستقبل میں پایا جائے اور (قد) سے خالی ہو،جیسے :(من صبر ظفر)۔
(ب)۔ اور جب جواب مضارع منفی ہو (لم) کے ذریعہ،جیسے :(من جاد لم یندم)۔
3۔ جس طرح سے (فاء) جواب کو شرط سے مرتبط کرتا ہے اسی طرح شبہ جواب کو شبہ شرط سے بھی مرتبط کرتا ہے، اور ایسا اس طرح کی مثالوں میں پایا جاتا ہے:(الذی یاتینی فلہ درھم) کہ یہاں (فاء) کے دخول سے ہی مراد متکل سمجھی جا سکتی ہے کہ درھم کا دیا جانا آنے پر معلق ہے،اسی لئے اگر (فاء) داخل نہ ہو تو اسکے علاوہ دوسرے احتمالات بھی تصور کیے جاسکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں