بدھ، 28 مارچ، 2018

النحو الجامع(ساتواں سبق. جملوں کے اعراب)

ساتواں سبق

جملوں کے اعراب
جو جملے مفرد کی جگه آتے هیں انکا محلی اعراب هوتا هے.
اور ان جملوں کی کچہ صورتیں ہیں 
1. وہ جملہ جو خبر واقع ہو جیسے  (الظلم مرتعه وخيم) 
2.. وہ جملہ جو مفعول بہ واقع ہو جیسے. (قل ان الحق یعلو) 
3.. وہ جملہ جو مفرد کا تابع ہو جیسے که امام امام علی ابن حسین علیهما السلام کا یه قول:  (لك الحمد حمداً يدوم بدوامك."الصحیفه السجادیه,دعاء:47") 
4.. وه جملہ جو حال واقع ہو جیسے که یه آیت:  (ولا تمنن تستکثر."المدثر:6") .
5.. وہ جملہ جو مضاف الیہ واقع ہو جیسے  (هذا يوم لا ينطقون."المرسلات:35") 
6.. وہ جملہ جو جواب واقع ہو شرط جازم کے لئے اور ملا ہو فاء (رابطہ) سے یا اذا (الفجاءيه)سے 
جیسے  (ان ینصرکم اللہ فلا غالب لکم."آل عمران:160")  
7.. وہ جملہ جو تابع ہو ایسے جملہ کا جس کا اعراب محلی ہو  جیسے (اقول له: ارحل لا تقيمن عندنا    والا فكن في السر والجهر مسلما) "شرح شواهد المغنی:2/839"
اور (الطالب یدرس و یکتب).

نکتہ... وہ جملے جنکا محلی اعراب نہیں ہوتا وہ ایسے جملے ہوتے ہیں جو مفرد کی جگہ پر نہیں آ تے..
جیسے...  جملہ الاستئنافیہ و الاعتراضیہ و التفسیریہ اور وہ جملہ جو صلہ واقع ہو موصول کا اور وہ جملہ جو جواب قسم واقع ہو اور وہ جملہ جو جواب واقع ہو شرط غیر جازم کے لۓ اور وہ جملہ جو جواب واقع ہو شرط جازم کے لۓ  اور ملا ہوا نہ ہو (فاء) یا( اذا) سے اور وہ جملہ جو ایسے جملے کا تابع ہو جسکا محلی اعراب نہ ہو.
وه جمله جو اپنے ما قبل کے لئے لازمی نه هو اور اگر نکره محضه کے بعد آئے تو یه اسکے لئے صفت هوگا,اور اگر معرفه محضه کے بعد آئے تو حال هوگا,اور اگر معرفه یا نکره غیر محضه کے بعد آئے تو صفت اور حال دونوں هونے کا گمان رهتا هے:(مغنی الادیب:2/33)
نوٹ:نکره محضه سے مراد (خالص نکره جسکی تخصیص نه کی گئی هو)هے.
اور معرفه محضه سے مراد:(بالذات معرفه هو نا که معرفه کی طرف مضاف هوکے کسب تعریف کرے).اور جس نکره کی تخصیص هو جائے وه نکره غیر محضه,اور جو معرفه کی طرف مضاف هو کے کسب تعریف کرے وه معرفه غیر محضه کهلاتا هے.
...................................................................

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں