بسمه تعالی
النحو الجامع
السید حمید جزائری
مترجم:سید منھال رضوی گوپالپوری
پهلا سبق
(علم نحو کی تعریف اور اسکا موضوع)
نحو:ایسے قاعدے جنکے ذریعه عربی الفاظ کی حالتوں کو معرب اور مبنی اور مفردات سے جملوں کی تشکیل کی حیثیت سے پهچانا جاتا هے.
اسکا فائده:عربی کلام میں زبان کو لفظی خطأ سے بچاتا هے اورصحیح و غلط کلام سے آشنا کراتا هے.
اس کا موضوع: کلمه اور کلام هیں.
کلمه: ایک ایسا قول جو مفرد معنی کے لئے وضع کیا گیا هو,اور اسکی تین قسمیں هیں,اسم, فعل اور حرف.
کلام: جو دو یا اس سے زیاده کلموں سے بنے,اور مستقل معنی بھی رکھتا هو جیسے )العلم نور ,اس بنیاد پر کلام میں دو چیزوں کا هونا ضروری هے اور وه :ترکیب اور مستقل فائده پهچانا هے.
لیکن جملے میں فائده پهچانے کی شرط نهیں هے,اس لئے جمله کلام سے اعم اور وسیع هے,هر کلام جمله هے لیکن "اقسم بالله" جمله هے لیکن کلام نهیں هے کیوںکه قسم بغیر جواب هے اسی طرح سے شرط جزاء کے بغیر هے.
جمله کی دو قسمیں هیں: اسمیه اور فعلیه,اسمیه اس جملے کو کهتے هیں جسکا پهلا رکن اسم هو جیسے "العجز آفه,اور لیت الشباب یعود"اور فعلیه اس جملے کو کهتے هیں جسکا پهلا رکن فعل هو جیسے " جاء الحق,ایاک نعبد,یا الله:
اور بهت کم ایسا هوتا هے که دو اسم سے کلام بنے, جیسے امیر المؤمنین علیه السلام کا یه قول "الورع جنه"یا ایک فعل اور ایک اسم سے بنےجیسے "جاء الحق"
تمرین 1:
لغت میں نحو کے پانچ معنی ذکر هوئے هیں:
1: قصد, کها جاتا هے "نحوت نحوک" یعنی میں نے تمهارا قصد کیا.
2:مثل, جیسے " مررت برجل نحوک یعنی مثلک,
3: جهت ,جیسے "توجھت نحو البیت"یعنی جھت البیت.
4:مقدار, جیسے" له عندی نحو الف" یعنی مقدار الف".
5: قسم, جیسے "ھذا علی اربعه انحاء "یعنی اقسام .
اور اس علم کو اسم "نحو" سے موسوم کرنے کی وجی یه هیکه جب مولا ئے متقیان علی علیه السلام نے ابو الاسود دئلی کو اسے بنانے کا اشاره کیا اور انهیں جب اسم ,فعل حرف اور اعراب میں سے کچھ سکھا چکے تو آپنے فرمایا :"انح ھذا النحو یا ابا الاسود"
دوسرا سبق
(اسم,فعل اور حرف کی علامتیں)
اسم کی چند علامتیں هیں جنسے وه دوسروں سے ممتاز هوتا هے:
- اسکی خبر دینا صحیح هے,جیسا که امام علیه السلام کا یه قول:(البخل عار) ((نھج البلاغه قصار الحکم 3))
- اسم مجرور هوتا هے,جیسے (سر علی اسم الله).
- اسم پر تنوین داخل هوتی هے,جیسے:(العلم وراثه کریمه).((نھج البلاغه,قصار الحکم 5)).
- منادی واقع هوتا هے,جیسے:(یا الله).
- اسم پر أل داخل هوتا هے,جیسے الله کا یه فرمان:(ان الانسان لفی خسر).
- اسم مصغر بنایا جاتا هے,جیسے که دعا میں وارد هوا هے:(فاغث یا غیاث المستغیثین عبیدک المبتلی).((دعاء ندبه))
فعل کی بھی چند علامتیں هیں:
- فعل مجزوم هوتا هے جیسا که الله کا یه فرمانا:(لم یلد ولم یولد).
- اس سے ضمائر بارزه مرفوعه متصل و ملحق هوتی هیں,جیسا که الله کا یه قول:(قالوا الان جئت بالحق"بقره 71").اور (قالوا یا مریم لقد جئت شیئا فریا"مریم 27").اور (قال رب انی دعوت قومی لیلا و نھارا"نوح5").اور (یا ایتھا النفس المطمئنه ارجعی الی ربک راضیه مرضیه"فجر 27,28").
- فعل سے تاء تأنیث ساکنه متصل هوتی هے,جیسے که یه آیت:(تبت یدا ابی لھب و تب"المسد 1").
- اس سے نون ثقیله اور خفیفه متصل هوتا هے,جیسے که یه آیت:(لیسجنن ولیکونا من الصاغرین"یوسف 32").
- اسپر "قد" داخل هوتا هے, جیسے یه آیت:( قد افلح من زکاھا"الشمس 9").
- اسپر "السین" داخل هوتا هے جیسے که حسان کا یه شعر:وقال ساعطی الرأیه الیوم صارما. کمیا محبا للاله موالیا.
- اسپر "سوف" داخل هوتا هے جیسے که یه آیت (ولسوف یعطیک ربک فترضی"الضحی 5").
اور جسمیں اسم اور فعل کی علامتوں میں سے کوئی بھی نه پائی جائے وه حرف هے.
تیسرا سبق
معرب اور مبنی
تمھید:
جو یہ خواہش رکھتا ہو کہ اسکا کلام نحوی قواعد کے مطابق ہو اس کے لئے ضروری ہیکہ مبنی اور معرب کلمات سے اور اعراب کی قسموں اور اعراب کے مواضع سے واقف ہو تاکہ ہر لفظ کو اسکا حق مل سکے اور خطا سے بچا جا سکے۔
اعراب: وہ کلمات جنکا آخر عامل کے بدلنے سے تبدیل ہو جیسے : (جاء زید، رایت زیدا، مررت بزید)۔
بناء: وہ کلمات جنکا آخر عامل کے بدلنے سے نہ بدلے،یعنی کہ ہر حالت میں اسکی حالت ایک جیسی رہے اور عامل کے بدلنے سے اعراب میں تبدیلی نہ آئے جیسے :(جاء الذی نجح،رایت الذی نجح،مررت بالذی نجح)۔
لفظ معرب: وہ کلمات کہ جن پر اعراب داخل ہوتا ہے۔
لفظ مبنی: وہ کلمات کہ جن پر بناء داخل ہوتی ہے۔ جیسے کہ "معلم" اور "الذی" گزشتہ مثالوں میں۔
تمام اسماء معرب ہیں سوائے کچھ کے اور وہ کچھ یہ ہیں: ضمائر،اسماء شرط،استفہام،اشارہ،موصول، اسماء افعال،اصوات، اور بعض کنایات و ظروف۔
جو اسماء عارضی طور پر (غیر دائمی) مبنی ہوتے ہیں کسی علت اور سبب کی بناء پر وہ یہ ہیں:"لا" نافیہ جنس کا اسم،منادی جو کہ مفرد علم ہو اور اسماء مرکبہ۔
اور حروف سبھی مبنی ہیں اسی طرح سبھی افعال مبنی ہیں سوائے فعل مضارع کے کہ فعل مضارع کے سبھی صیغے معرب ہیں سوائے ان صیغوں کے کہ جن سے نون نسوہ (یفعلن اور تفعلن) یا مباشرتا نون تاکید متصل ہوتا ہے۔جہاں مباشرتا نون تاکید متصل ہوتا ہے وہ مبنی ہیں جیسے مضارع کے یہ صیغے:(1،4،7،13،14) بقیی صیغے معرب ہیں۔
چوتھا سبق
معرب اور مبنی (2)
اعراب کی علامتیں
اعراب کے چار القاب ہیں: رفع، نصب، جر، جزم۔
رفع اور نصب اسم اور فعل میں مشترک ہیں، اور جر اسم سے مخصوص ہے جبکہ جزم افعال سے مخصوص ہیں۔ییاں اعراب کی علامتیں ذکر ہو رہی ہیں۔
رفع کی چار علامتیں ہیں اور وہ یہ ہیں:
- ضمہ،جیسے : ینجح المجتھد۔
- تثنیہ اور ملحقات تثنیہ (جیسے : اثنان و اثنتان،کلا و کلتا) میں الف جیسے: جاء الفائزان کلاھما۔
- جمع مذکر سالم اور ملحقات جمع مذکر سالم( جیسے: اھلون، اولو، عالمون، ارضون، علیون، عشرون تا تسعون اور سنون) اور اسماء ستہ (اب، اخ، حم، ھن، فم، ذومال) میں واو جیسے: (حضر المعلمون و ابوک) اور یہ آیت (وما یذکر الا اولو الالباب-بقرہ 269).
نصب کی پانچ علامتیں یه هیں:
- فتحه, جیسے : (لن ادعو المعلم الی ھذه الحفله).
- تثنیه,جمع مذکر سالم اور جمع مذکر سالم کے ملحقات میں "یاء",جیسے:(استقبلت القادمین).
- اسماء سته میں الف, جیسے : (رایت اباک).
- جمع مؤنث سالم اور اسکے ملحقات (اولات بمعنی صاحبات اور عرفات) کسره فتحه کی نیابت میں, جیسے : (اکرمت المجتھدات).
- افعال خمسه میں حذف نون, جیسے : (حضر الطلاب کی یشترکوا فی الدرس).
1. کسره, جیسے :(دخلت فی المسجد).
2. تثنیه,جمع مذکر سالم,جمع مذکر سالم کے ملحقات اور اسماء سته میں "یاء", جیسے: (رحبنا بالقادمین).
3. غیر منصرف میں فتحه کسرے کی نیابت میں, جیسے :(مررت باحمد).
جزم کی تین مندرجه ذیل علامتیں هیں.
1. سکون, جیسے: (لم ینجح الکسول).
2. افعال خمسه میں حذف نون, جیسے :(المعلمون لم یقصروا فی واجبھم).
3. افعال ناقصه کے ان صیغوں (1,4,7,13,14) میں حرف عله کا حذف هونا, جیسے:(لا تدع مع الله احدا).
اعراب کی علامتوں کی دو قسمیں هیں:
1. اصلی: اور یه حالت رفع میں ضمه, حالت نصب میں فتحه, حالت جر میں کسره اور حالت جزم میں سکون هیں.
2. فرعی: اور یه تثنیه,جمع مذکر و مؤنث سالم اور انکے ملحقات, اسماء سته, اسماء غیر منصرف, افعال خمسه اور فعل مضارع معتل لام میں هوتے هیں.
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں